اچانک آپ کا بچہ پیٹ پکڑ لیتا ہے، کھیلنا نہیں چاہتا یا بار بار کہتا ہے: „میرے پیٹ میں درد ہے۔“ والدین کے لیے اکثر یہ اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے کہ آیا اس کے پیچھے صرف ایک بے ضرر ہاضمے کی تکلیف ہے یا پیٹ کے درد کی ڈاکٹر سے جانچ ضروری ہے۔
اطمینان کے لیے پہلے یہ جان لیں: بچوں میں پیٹ درد عام ترین شکایات میں سے ہے اور اکثر بے ضرر ہوتا ہے۔ ساتھ ہی کچھ خبردار کرنے والی علامات بھی ہوتی ہیں جن میں بچے کا بروقت معائنہ ہونا چاہیے۔
بچوں میں پیٹ درد کیوں ہوتا ہے؟
پیٹ درد کی بہت سی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں۔ اکثر اس کے پیچھے کوئی سنجیدہ مسئلہ نہیں ہوتا۔
عام وجوہات یہ ہیں:
- قبض
- معدہ-آنت کے انفیکشن
- گیس
- غیر معمولی یا بہت زیادہ کھانا
- تناؤ یا جذباتی دباؤ
- شروع ہونے والے وائرل انفیکشن
کبھی کبھی پیٹ درد بخار، کھانسی یا گلے کے درد کے ساتھ بھی ہوتا ہے اور ایک عمومی انفیکشن کا حصہ ہوتا ہے۔
کون سی باتیں اکثر پھر بھی نارمل ہوتی ہیں؟
بہت سے بچوں کو کبھی کبھار پیٹ میں درد ہوتا ہے، بغیر اس کے کہ وہ واقعی بیمار ہوں۔
مثال کے طور پر آپ کا بچہ:
- پیٹ میں غیر واضح دباؤ کی شکایت کر سکتا ہے
- ٹوائلٹ جانے کے بعد پھر ٹھیک ہو سکتا ہے
- درمیان میں بالکل معمول کے مطابق کھیل سکتا ہے
- صرف کچھ وقت کے لیے کم بھوک محسوس کر سکتا ہے
- گھبراہٹ یا تناؤ میں پیٹ درد محسوس کر سکتا ہے
خاص طور پر کنڈرگارٹن اور پری اسکول کی عمر میں پیٹ درد کا تعلق جذباتی دباؤ سے بھی ہو سکتا ہے۔
آپ کیسے پہچانیں کہ پیٹ درد زیادہ تر بے ضرر ہے؟
اکثر ایک سادہ اور بغیر پیچیدگی کے انداز یہ ظاہر کرتا ہے کہ اگر آپ کا بچہ:
- تکلیف کے درمیان پھر کھیل لیتا ہے،
- کافی پیتا ہے،
- بہت شدید درد نہیں ہے،
- معمول کے مطابق سانس لے رہا ہے،
- اور چند گھنٹوں یا دنوں میں حالت بہتر ہو جاتی ہے۔
فیصلہ ہمیشہ مجموعی حالت سے ہوتا ہے – نہ کہ صرف ایک لمحے میں درد کی شدت سے۔
آپ کو اپنے بچے کو ڈاکٹر کو کب دکھانا چاہیے؟
بچوں کے ڈاکٹر کے پاس معائنہ کروانا مفید ہے اگر:
- درد بہت شدید ہو یا اچانک شروع ہوا ہو،
- بچہ پیٹ کو ہاتھ لگانے نہ دے،
- درد بڑھتا ہی جا رہا ہو،
- بخار بھی ہو جائے،
- بار بار قے ہو،
- پاخانے یا قے میں خون نظر آئے،
- بچہ بہت کم پی رہا ہو،
- بچہ غیر معمولی طور پر بہت سست یا بے حس سا لگے،
- پیٹ درد کئی دنوں سے برقرار ہو،
- یا بچہ بار بار پیٹ درد کی شکایت کرے۔
خاص طور پر دائیں نچلے پیٹ میں شدید درد کی جلد ڈاکٹر سے جانچ ضروری ہے، کیونکہ اس کے پیچھے دوسری وجوہات کے علاوہ اپینڈکس کی سوزش (Blinddarmentzündung) بھی ہو سکتی ہے۔
آپ کو فوراً طبی مدد کب لینی چاہیے؟
ایمرجنسی نمبر پر کال کریں یا فوراً ایمرجنسی (Notaufnahme) جائیں اگر آپ کا بچہ:
اچانک بہت شدید ترین پیٹ درد محسوس کرے،
پیٹ سخت اور تناؤ والا ہو،
پیلا لگے یا مشکل سے ہوش میں/بات کا جواب دے رہا ہو،
خون کی قے کرے،
سبز مائل قے ہو،
یا کسی حادثے کے بعد بہت شدید درد ہو۔
ان شکایات کا فوری طور پر طبی طور پر جائزہ لیا جانا چاہیے۔
آپ گھر پر کیا کر سکتے ہیں؟
اگر آپ کا بچہ مجموعی طور پر ٹھیک لگ رہا ہو اور کوئی خطرے کی علامت نہ ہو، تو اکثر سادہ اقدامات مدد کرتے ہیں۔
مثال کے طور پر:
- باقاعدگی سے تھوڑی تھوڑی مقدار میں پینے کے لیے پیش کریں
- آرام کرنے دیں
- اگر بچہ کھانا چاہے تو ہلکی، آسانی سے ہضم ہونے والی غذا دیں
- دیکھیں کہ پاخانہ آنے یا گیس نکلنے سے آرام تو نہیں ملتا
- آگے کی صورتِ حال پر نظر رکھیں
اگر پیٹ درد کی وجہ واضح نہ ہو تو ڈاکٹر سے مشورہ کیے بغیر درد کی دوا نہ دیں۔ یہ ڈاکٹر کے معائنے کے لیے اہم اشارے چھپا سکتی ہیں۔
قبض کی وجہ سے پیٹ درد
بچوں میں بار بار ہونے والے پیٹ درد کی سب سے عام وجوہات میں سے ایک قبض ہے۔
اس کی نشانیاں یہ ہو سکتی ہیں:
- کم بار یا سخت پاخانہ،
- پاخانہ کرتے وقت درد،
- ٹوائلٹ پر زور لگانا،
- یا انڈرویئر میں پاخانے کے نشان۔
اگر آپ کا بچہ یہ مسئلہ بار بار محسوس کرتا ہے تو بچوں کے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا مفید ہے۔
کیا پریشانی بھی پیٹ درد کا سبب بن سکتی ہے؟
جی ہاں۔ بچے اکثر دباؤ اور بوجھ کو جسمانی طور پر ظاہر کرتے ہیں۔
مثال کے طور پر پیٹ درد کا تعلق ان چیزوں سے ہو سکتا ہے:
- ڈے کیئر (Kita) یا کنڈرگارٹن،
- گھر میں تبدیلیاں،
- جھگڑا،
- نئی صورتِ حال،
- یا گھبراہٹ/جوش
سے۔
ایسی صورت میں بھی درد بچے کے لیے حقیقی ہوتا ہے اور اسے سنجیدگی سے لینا چاہیے۔
یہ بات یاد رکھیں
بچوں میں زیادہ تر پیٹ درد بے ضرر ہوتے ہیں اور کچھ ہی وقت میں بہتر ہو جاتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ تکلیف کتنی شدید ہے، کیا مزید علامات بھی ساتھ آ رہی ہیں، اور مجموعی طور پر آپ کا بچہ کیسا محسوس کر رہا ہے۔ اگر وہ کافی پانی/مائعات پی رہا ہو، درمیان میں کھیل بھی رہا ہو اور درد عارضی سا لگے، تو اکثر یہ ایک سادہ اور بغیر پیچیدگی کے معاملہ ہوتا ہے۔ اگر خطرے کی علامات ظاہر ہوں یا تکلیف بڑھتی جائے تو بچے کا بچوں کے ڈاکٹر سے معائنہ ہونا چاہیے۔




